ریبیز مریضوں کے علاج میں مبینہ غفلت، سندھ میں 7 طبی اہلکار معطل

چیف سیکریٹری سندھ نے ریبیز کے مریضوں کے علاج میں مبینہ لاپرواہی کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت کے 7 افسران اور اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت اینٹی ریبیز پروگرام کے فالو اپ اجلاس میں صوبے میں ریبیز کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور علاج کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران مبینہ غفلت کے معاملے پر تین میڈیکل افسران، ایک خاتون میڈیکل افسر اور تین پیرامیڈیکل ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی۔

معطل کیے جانے والوں میں ضلع ٹنڈو محمد خان میں تعینات ڈاکٹر نوید الرحمٰن، ڈاکٹر غلام اظہر، ٹی ایچ کیو اسپتال ٹنڈو غلام حیدر کی ڈاکٹر پارس، فرزانہ بلوچ، شازیہ خادم، اینٹی ریبیز سینٹر شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد کے ڈاکٹر ارباز انہر انصاری اور شاہ بھٹائی اسپتال حیدرآباد کے ڈسپنسر محمد ارشد شامل ہیں۔

چیف سیکریٹری سندھ نے ریبیز متاثرین کی دیکھ بھال میں مبینہ کوتاہی پر متعدد سینئر طبی اور انتظامی افسران سے بھی وضاحت طلب کرلی ہے۔

حکام کے مطابق لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد کے ایم ایس، ڈی ایچ او ٹنڈو محمد خان، شاہداد پور انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر، ڈی ایچ کیو ٹنڈو الہ یار اور تعلقہ اسپتال کوٹری کے ایم ایس سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔

اجلاس میں ریبیز کے مریضوں کے علاج اور اینٹی ریبیز پروگرام کی مؤثر نگرانی کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔