رانا ثناء اللہ: صوبوں کی تشکیل کا فیصلہ پارلیمنٹ میں بحث کے بعد ہوگا

وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں مقامی حکومت کے قیام سے متعلق قانون اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں حلقہ بندی کا عمل جاری ہے یا مکمل کیا جا چکا ہے اور بلدیاتی انتخابات کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔

سماء ٹی وی کے پروگرام ’’ریڈ لائن‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہر صوبے کے لیے سینیٹ میں 11 نشستیں مختص ہیں، تاہم اسلام آباد کے لیے ایسی نشستیں موجود نہیں۔ ان کے مطابق اگر اسلام آباد کو میٹروپولیٹن کارپوریشن کا درجہ دیا جائے تو اس کے سربراہ کو میئر کہا جا سکتا ہے، جبکہ اسے صوبے کی حیثیت دینے کی صورت میں وزیراعلیٰ کا عہدہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ محض کسی فورم پر تقریر یا تجویز پیش کرنے سے کوئی علاقہ صوبہ نہیں بن جاتا، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ آئینی اور پارلیمانی عمل ضروری ہے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر کابینہ کے ارکان کی مختلف آرا ہوسکتی ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی اس حوالے سے اجلاس کرے گی اور پارٹی اجلاس کے بعد جاری ہونے والا مؤقف ہی جماعت کی پالیسی تصور ہوگا۔

سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کابینہ میں جو فیصلہ ہوگا، وہ حکومت کا باضابطہ مؤقف سمجھا جائے گا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ملک کا نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم خود ایسا سمجھتے ہوں تو پھر انہیں حکومت کے نظام سے الگ ہوجانا چاہیے، تاہم موجودہ صورتحال ایسی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی میں کسی بل یا قرارداد پر غور ہو رہا ہو تو ارکان کو اس پر اپنی تشویش یا رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم اگر قومی اسمبلی میں ایسا کوئی معاملہ زیرغور ہی نہ ہو تو وہاں اس حوالے سے خبردار کرنے کی ضرورت سمجھ میں نہیں آتی۔

محسن نقوی کے اس بیان پر کہ وہ نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر عوام واقعی نئے صوبے چاہتے ہیں تو انہیں بنانے سے کون روک سکتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر صرف ریفرنڈم کے ذریعے صوبہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر محسن نقوی قومی اسمبلی، سینیٹ یا کابینہ کے فورم پر نئے صوبوں کے معاملے کو پیش کریں گے تو وہ بھی اس پر اپنا مؤقف بیان کریں گے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق جب صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ پارلیمنٹ میں باضابطہ طور پر آئے گا تو اس پر تفصیلی بحث کی جا سکتی ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صوبوں کے قیام سے متعلق بحث ایک اکنامک فورم سے شروع ہوئی، جہاں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں تھی۔ ان کے مطابق سیمینار میں تقریباً دو درجن سے زائد مقررین نے اظہار خیال کیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں ہونے والی گفتگو کسی سیاسی جماعت کی پالیسی بن گئی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ابھی تک نئے صوبوں کے معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، اس لیے وہ اپنی ذاتی رائے کو پارٹی کا مؤقف قرار نہیں دینا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی کوئی ذاتی رائے ہوگی تو وہ اسے پارٹی کے اندر پیش کریں گے۔

سینیٹر رانا ثناء اللہ کے مطابق صوبوں کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) جو فیصلہ کرے گی، وہی جماعت کا حتمی مؤقف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مختلف فورمز پر جاری بحث غیرضروری اور بے نتیجہ ہے، کیونکہ محض سیمینارز اور تقریروں سے صوبوں کا قیام ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر اصل فیصلہ اور نتیجہ اس وقت سامنے آئے گا جب صوبوں کی تشکیل یا نئے انتظامی یونٹس کی بحث پارلیمنٹ کے سامنے آئے گی۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنا مؤقف واضح کریں گی۔

رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ نواز شریف نے بھی صوبوں کے معاملے پر پارٹی کا اجلاس بلانے اور اس حوالے سے مشترکہ رائے قائم کرنے کی بات کی ہے۔