مصطفیٰ کمال کا انتظامی یونٹس کے قیام پر زور، موجودہ نظام پر تنقید
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں انتظامی نظام کی ازسرنو تشکیل کا وقت آچکا ہے تاکہ اختیارات اور وسائل ملک کے ہر شہری تک مؤثر انداز میں پہنچائے جاسکیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کورنگی ٹاؤن میں انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے جاری عوامی رابطہ مہم سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہونے والے اختیارات اور وسائل سے گزشتہ 18 برسوں کے دوران مبینہ طور پر مناسب استفادہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث عوامی محرومیوں میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال کے نتیجے میں ملک کے دو صوبوں میں ریاست مخالف مسلح سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ طرز حکمرانی پر نظرثانی کرتے ہوئے ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس تشکیل دینا ضروری ہوگیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ نظام طویل عرصے سے ایسے حالات پیدا کررہا ہے جن کے نتیجے میں ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ انتظامی ڈھانچے کے تحت مزید آگے لے جانا مشکل ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کراچی کے شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں آوارہ کتوں، کھلے گٹروں اور ٹریفک حادثات کے باعث شہریوں کو جانی نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے صحت اور امن و امان سے متعلق مسائل کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کراچی کے نوجوانوں کے روزگار کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ مصطفیٰ کمال کا دعویٰ تھا کہ شہری نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے مواقع محدود ہیں اور شہری کوٹے کے حوالے سے بھی مسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق جعلی ڈومیسائل کے ذریعے شہریوں کے حقوق متاثر کیے جارہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ کے حکمرانوں نے کراچی کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مؤثر مواقع پیدا نہیں کیے اور ان کے بقول نوجوانوں کے پاس محدود معاشی راستے رہ گئے ہیں۔
انہوں نے پاکستان بھر کے محروم اور کم آمدن طبقے پر زور دیا کہ انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کے لیے متحد ہوکر منظم انداز میں آواز اٹھائی جائے۔
اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما انیس قائم خانی، انچارج سی او سی فرقان اطیب سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔