بھارتی سپریم کورٹ کی راجپال یادیو کو 2 کروڑ روپے جمع کرانے کے لیے 2 ہفتوں کی مہلت
بھارتی سپریم کورٹ نے کامیڈی اداکار راجپال یادیو کو مالی تنازع سے متعلق کیس میں 2 کروڑ بھارتی روپے جمع کرانے کے لیے مزید دو ہفتوں کا وقت دے دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ چیک باؤنس سے پیدا ہونے والے مالی تنازع سے متعلق ہے، جس میں عدالت نے اداکار کو کم از کم 2 کروڑ روپے سپریم کورٹ رجسٹری میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کے دوران راجپال یادیو کے سابقہ طرز عمل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماضی کے حالات کو دیکھتے ہوئے ان کے وعدوں پر مکمل اعتماد کرنا آسان نہیں۔
سماعت کے دوران راجپال یادیو کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اداکار مقررہ مدت کے اندر 2 کروڑ روپے جمع کرا دیں گے جبکہ باقی واجب الادا رقم کے لیے ضمانت بھی فراہم کی جائے گی۔
چیف جسٹس سوریا کانت نے اداکار کے سابقہ رویے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے وعدے پر اعتماد سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں کیے گئے وعدے کو ماضی کے طرز عمل کی روشنی میں کس حد تک قابلِ اعتماد سمجھا جاسکتا ہے۔
عدالت نے وکیل کی یقین دہانی کے بعد راجپال یادیو کو رقم جمع کرانے کے لیے آخری بار مزید دو ہفتوں کی مہلت دے دی۔ ان کی ضمانت قبل از گرفتاری بھی اگلی سماعت تک برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا، جبکہ اداکار کو اپنا پاسپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
راجپال یادیو کے مالی تنازع کا آغاز 2010 میں ہوا، جب انہوں نے اپنی ہدایت کاری میں بننے والی پہلی فلم ’’اتا پتہ لاپتہ‘‘ کی تیاری کے لیے ایک نجی ادارے سے 5 کروڑ بھارتی روپے قرض لیا تھا۔
فلم کی ناکامی کے بعد اداکار قرض کی رقم واپس نہ کرسکے۔ سود اور دیگر واجبات شامل ہونے کے بعد یہ رقم بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ بھارتی روپے تک پہنچ گئی، جس کے بعد فریقین کے درمیان طویل قانونی تنازع شروع ہوگیا۔