سیئنر صحافی مہر عباس کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے تعزیتی ریفرنس

تعزیتی ریفرنس سینئر صحافی مہر محمد عباس مرحوم

سیئنر صحافی مہر عباس کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے تعزیتی ریفرنس ساہیوال پریس کلب رجسٹرڈ کے محسن نقوی ہال میں منعقد کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ساہیوال ڈویژن میاں عقیل اشفاق،چیئرمین پریس کلب حافظ وحید احمد،سیاسی و سماجی رہنماؤں شیخ شاہد حمید، طیب محمود بلوچ، صحافی برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت صدر پریس کلب رانا جاوید نثار نے کی جبکہ نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری پریس کلب نوید غنی چوہدری نے انجام دیے۔حافظ وحید احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ مہر عباس مرحوم ایک بااصول، بے باک اور فرض شناس صحافی تھے جنہوں نے ہمیشہ سچ اور حق کی آواز بلند کی۔ ان کی صحافت محض خبر رسانی تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ معاشرے کی اصلاح اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کرتے رہے۔
میاں عقیل اشفاق نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانتداری سے ادا کیں اور نوجوان صحافیوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کی۔ ان کی خدمات محکمہ اطلاعات اور صحافتی حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
شیخ شاہد حمید نے کہا کہ مہر عباس ایک نڈر آواز تھے جو ہر مشکل وقت میں سچ کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کی وفات سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا۔
طیب محمود بلوچ نے کہا کہ مرحوم نے قلم کو امانت سمجھ کر استعمال کیا اور ہمیشہ عوام کے مسائل کو اجاگر کیا۔ ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔
صدر پریس کلب رانا جاوید نثار نے اپنے خطاب میں کہا کہ مہر عباس مرحوم نہ صرف ایک قابل صحافی بلکہ ایک شفیق اور مخلص ساتھی بھی تھے۔ پریس کلب ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور ان کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔اس موقع پر چوہدری عمر منظور ،رضوان طاہر ،سابق چیئرمینز پریس کلب عزیز الحق گورائیہ / رشید اکمل،سابق صدر شیخ محمدنعیم،
سابق سینیئر نائب صدر پیرسیدطمطراق محاسن شاہی،سابق سیکرٹری فنانس راؤ عتیق احمد،نائب صدرجاوید شوکت وینس،جوائنٹ سیکرٹری میاں رمضان،میاں وسیم ریاض امتیاز احمد بٹ ،ارشد فریدی سلیم کاٹھیا،ملک دلاور سلطان ڈھکو،ڈی ایس پی ریٹائرڈ رانا افتخار احمد طاہر رشیدی عثمان حیدر جماعت اسلامی مہر محمد عباس کے عزیز واقارب،سمیت دیگر بھی موجود تھے-آخر میں مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور اجتماعی دعا کی گئی جس میں ان کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی