8 خواتین کی پھانسی کے حوالے سے ٹرمپ کا دعویٰ غلط ہے، ایرانی عدلیہ

جنگ بندی مذاکرات کے حساس مرحلے پر ٹرمپ نے ایران سے آٹھ خواتین کو پھانسی نہ دینے اور انہیں رہا کرنے کی اپیل کر کے سفارتی محاذ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، رہا کیا جائے، یہ مذاکرات کا بہترین اغاز ہوگا،نیویارک میں قائم یہودی تنظیم نے ان خواتین کی شناخت بھی ظاہر کردی، سفارتی محاذ پر نئی بحث شروع ہوگئی،ایرانی عدلیہ نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ خبریں جعلی اور بے بنیاد ہیں اور کسی خاتون کو حتمی طور پر سزائے موت نہیں سنائی گئی،عالمی میڈیا نے بھی اس معاملے کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے اور معلومات کے غیر مصدقہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اسلام آباد میں جاری جنگ بندی مذاکرات کے دوران ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت پانے والی آٹھ خواتین کو پھانسی نہ دے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہاایرانی قیادت سے، جو جلد میرے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ہے، میری بھرپور درخواست ہے کہ ان خواتین کو رہا کر دیا جائے۔