اعظم نذیر تارڑ کا پی ٹی آئی سے مذاکرات پر مؤقف، اپوزیشن سے سنجیدگی کا مطالبہ
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کو مذاکرات کے متعدد مواقع فراہم کیے گئے، تاہم بات چیت کے ذریعے معاملات حل نہیں ہوسکے۔ ان کے مطابق حکومت مذاکرات سے انکاری نہیں، لیکن اپوزیشن کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کی سیکیورٹی اور اسے محفوظ رکھنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں متعدد مرتبہ احتجاجی پیش قدمی کی جاچکی ہے۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے، تاہم یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ بھی حکومت کی جانب سے کرایا جاچکا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے پی ٹی آئی کے سابقہ طرزِ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی سیاسی سرگرمیوں اور ماضی کے واقعات سے اس کے کردار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی جانب ماضی میں بھی متعدد مرتبہ پیش قدمی کی گئی، جبکہ مئی 2022 اور نومبر 2024 کے واقعات سب کے سامنے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک آئینی طریقہ کار کے تحت چلتا ہے اور طاقت کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔