عطا اللہ تارڑ کا افغانستان میں پائیدار امن پر زور
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کے بغیر وسطی ایشیائی ممالک سے پاکستان تک تجارتی رابطے قائم کرنے کا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں امن پورے خطے کی معاشی ترقی اور تجارت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا، جبکہ افغانستان میں دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں علاقائی تجارت اور رابطوں کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں اور وہاں امن قائم ہونے کی صورت میں وسطی ایشیا سے پاکستان تک تجارتی راستے کھولے جاسکتے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان کے راستے کراچی اور گوادر سمیت پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں، جو ان ممالک کی دیرینہ خواہش ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن ہی معاشی خوشحالی، تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم ملک کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کا ماضی میں بھی جواب دیا گیا ہے اور آئندہ بھی دیا جائے گا۔ ان کے بقول خطے میں امن و استحکام سے تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے وہاں وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔