استنبول ایئرپورٹ پر ایرانی ایئرلائن کا بوئنگ طیارہ ضبط
استنبول ایئرپورٹ پر ایرانی ایئرلائن کی ملکیت بوئنگ 737 طیارہ تقریباً 30 لاکھ یورو کے واجبات کی عدم ادائیگی کے معاملے پر روک لیا گیا، جبکہ پرواز میں سوار تمام مسافروں کو روانگی سے قبل طیارے سے اتار دیا گیا۔
ترک میڈیا کے مطابق مسافروں کے طیارے میں سوار ہونے کے بعد ترک عدالت کے اہلکار اور متعلقہ قرض خواہ کمپنی کے وکلا ایئرپورٹ پہنچے۔ حکام نے طیارے کو تہران روانہ ہونے سے روک دیا اور مسافروں و عملے کو طیارے سے اتار کر ٹرمینل منتقل کردیا۔
رپورٹ کے مطابق EP-KPB رجسٹریشن والا بوئنگ 737 ترکی کی ایک ایوی ایشن سروسز کمپنی کے واجب الادا تقریباً 30 لاکھ یورو کے معاملے کے باعث ضبط کیا گیا۔
کیسپین ایئرلائنز کا مؤقف
کیسپین ایئرلائنز نے واقعے کو ترکیہ میں جاری ایک انتظامی معاملے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بوئنگ طیارے پر عارضی آپریشنل پابندی عائد کی گئی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایئرلائن کا کہنا ہے کہ معاملہ استنبول ایئرپورٹ کی خدمات کے عوض ادا کیے جانے والے تقریباً 30 لاکھ یورو کے واجبات سے متعلق ہے۔ ایئرلائن کے مطابق طیارے کو ایران واپس آنا تھا۔
ایرانی ہوا بازی کی صنعت کو مشکلات
ایرانی طیارے کی ضبطی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کی ایوی ایشن انڈسٹری پہلے ہی مالی اور آپریشنل مسائل سے دوچار ہے۔
رپورٹ کے مطابق 8 ستمبر کو امریکا نے 27 ایرانی ایئرلائنز کے خلاف پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ ایرانی ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ بعض کمپنیوں اور دیگر اداروں کو بھی پابندیوں میں شامل کیا گیا۔
امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی ایئرلائنز کو طیاروں، اسپیئر پارٹس، مرمت و دیکھ بھال کی سہولیات اور بین الاقوامی مالیاتی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
کیسپین ایئرلائنز کے طیارے کو استنبول ایئرپورٹ پر روکے جانے کے وقت بھی ایران اور ترکیہ کے درمیان ایئرلائن کی پروازوں کا سلسلہ جاری تھا۔