رانا ثناء اللہ کا پی ٹی آئی لانگ مارچ پر بیان، ایمرجنسی سمیت مختلف آپشنز زیر غور

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت وفاق کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ان کے مطابق گورنر راج، ایمرجنسی اور سیاسی مذاکرات سمیت مختلف آپشنز حکومت کے زیر غور ہیں۔

نجی ٹی وی چینل سما کے پروگرام ’ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات سے سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دہشت گرد افغانستان سے صوبے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا مقصد اپنی کارروائیوں کا دائرہ ملک کے دیگر بڑے شہروں تک پھیلانا ہے۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت امن و امان کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی اور اس کا وفاقی حکومت کے ساتھ مؤقف بھی مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی سیاسی سوچ یا مطالبات تبدیل کرنے کا نہیں کہا جارہا، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر اسے ریاست اور پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں گورنر راج، ایمرجنسی اور مذاکرات تینوں راستے زیر غور ہیں۔ ان کے بقول پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے کے لیے اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر کہا کہ ان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں سے ہونا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے معاملے میں حکومت نے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت گزشتہ دو ماہ سے لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور صوبے کے دیگر معاملات پر توجہ نہیں دے رہی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرتی ہے تو ایمرجنسی سمیت مختلف اقدامات زیر غور آسکتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ اگر احتجاج کے دوران طاقت کا استعمال کیا گیا تو ریاست بھی قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔

وزیراعظم کے مشیر نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ لانگ مارچ مؤخر کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو ملاقات کے لیے خط لکھا ہے اور اس ملاقات میں بیرسٹر گوہر کی شرکت بھی مفید ہوگی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر لانگ مارچ میں مزید تاخیر کی جاتی ہے تو حکومت کو مختلف آئینی راستوں پر غور کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کا گھیراؤ قانون کے مطابق قابل قبول نہیں ہوگا اور احتجاج کے معاملے پر حکومت تمام قانونی و آئینی آپشنز کو مدنظر رکھے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی سطح پر بھی معاملے پر اجلاس ہوگا۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق اگر احتجاج کرنا ہے تو اسے پشاور یا مردان تک محدود رکھا جائے، جبکہ آئین و قانون کے مطابق صوبائی حکومت چلانے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے۔