پشاور ہائیکورٹ کی کامران بنگش کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما کامران بنگش کی ریڈیو پاکستان کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران کامران بنگش کی جانب سے بیرسٹر ظفر اور انعام یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کامران بنگش ریڈیو پاکستان کیس میں نامزد ہیں اور انہیں گرفتاری کا خدشہ ہے، اس لیے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کی استدعا کی گئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے انعام یوسفزئی سے سوال کیا کہ انہیں ایڈووکیٹ جنرل آفس سے ہٹائے جانے کے باوجود وہ کامران بنگش کی جانب سے عدالت میں پیش کیوں ہورہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں ایک قابل شخص موجود تھا، اسے بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس پر انعام یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں مبینہ طور پر بھتہ دینے سے انکار کرنے پر عہدے سے ہٹایا گیا۔

اس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ یہ باعثِ حیرت ہے کہ ’صاف چلی، شفاف چلی‘ حکومت میں بھی بھتے کے مطالبات کیے جارہے ہیں۔