شوکت یوسفزئی کا سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل، 4 اکتوبر کے مارچ پر مؤقف برقرار

خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ ان کے خط کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں سہیل آفریدی کو ’بادشاہ‘ بھی قرار دیا۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے ان کے بارے میں دیے گئے بیان کے بعد انہیں مختلف حلقوں سے ’شاباشیں‘ مل رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت کو بھیجا گیا خط واٹس ایپ کے ذریعے پہنچایا گیا تھا اور اسے بیرسٹر گوہر نے پڑھ کر جواب بھی دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹے اور ماضی میں بیماری کے باوجود ڈی چوک تک پہنچے تھے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ 4 اکتوبر کو ہونے والے مارچ میں وہ سہیل آفریدی سے آگے ہوں گے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق 27 ستمبر کو لانگ مارچ کی کال دینے کے معاملے پر تحریک انصاف کے اندر بعض رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنید اکبر اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں شامل تھے، جبکہ محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس سمیت بعض دیگر رہنما اس فیصلے سے متفق نہیں تھے۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض رہنماؤں کی رائے تھی کہ احتجاج کے بجائے مقتدر حلقوں سے مذاکرات کے ذریعے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا راستہ نکالا جائے۔ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمران خان کو پمز اور بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی کال کے بعد پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا اور فریقین کے درمیان اعتماد کی صورتحال مزید متاثر ہوئی۔

ادھر گورنر راج سے متعلق بھی مختلف حکومتی اور سیاسی بیانات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے فیصلے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم دستیاب رپورٹس میں وفاقی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے آنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی سمیت حکومتی شخصیات نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی امکان کا ذکر ضرور کیا ہے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کو بعد ازاں 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ پارٹی کے اندر اس فیصلے اور مارچ کے حوالے سے مختلف آرا بھی سامنے آتی رہی ہیں۔