عراق سے امریکی فوج کا 23 سال بعد مکمل انخلا
امریکا نے عراق میں 23 سالہ فوجی موجودگی ختم کرتے ہوئے اپنا آخری فوجی بھی واپس بلا لیا ہے۔ بغداد ایئرپورٹ اور عراقی کردستان میں موجود امریکی اڈوں سے فوجی سازوسامان اور دیگر اثاثے اردن منتقل کردیئے گئے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد داعش کے خلاف کارروائیوں کا مرکزی مقام اردن میں قائم امریکی فوجی اڈہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کا عراق سے انخلا 2024 میں صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں طے پانے والے معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط امریکی فوجی موجودگی کے دوران 4 ہزار 500 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب عراقی مزاحمتی گروہوں نے امریکی افواج کے مکمل انخلا کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ عراق سے امریکی فوج کے نکلنے کے بعد ملک میں ایرانی اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔