شرجیل میمن کا احتجاج پر مؤقف، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی اجازت نہ دینے کا اعلان

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ یا ہتھیار اٹھانے کی کوشش کی گئی تو حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کی آڑ میں تشدد یا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے سندھ حکومت کی مختلف شعبوں میں کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایسے کئی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں جنہیں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے شعبے میں سندھ دنیا کے ٹاپ 10 میں شمار ہورہا ہے۔

سینئر وزیر نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے گزشتہ 18 برس کے دوران مختلف شعبوں میں نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق صحت کے اداروں، ہاؤسنگ اسکیموں اور پبلک پرائیویٹ منصوبوں کو بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

شرجیل میمن نے آزادیٔ صحافت کے حوالے سے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آزاد میڈیا کی حمایت کی ہے اور سندھ حکومت کی جانب سے صحافیوں کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے لیے اہم حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے تنقید کو ہمیشہ کھلے دل سے قبول کیا ہے۔

سندھ وژن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اس حوالے سے پہلے ہی بریفنگ دے چکے ہیں۔ محکمہ اطلاعات نومبر میں سکھر اور تھرپارکر میں سندھ وژن کے موضوع پر کانفرنسز منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں ملک بھر سے صحافیوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی صحافیوں کو بھی ان پروگراموں میں مدعو کیا جائے گا تاکہ انہیں سندھ حکومت کے مختلف منصوبوں اور اقدامات سے آگاہ کیا جاسکے۔

شرجیل میمن کے مطابق اکتوبر میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد چین کا دورہ کرے گا، جہاں شنگھائی میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تین سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے اور ملکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے صنعتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔