پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب
وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان اور صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، جس کے بعد ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل اور مطالبات پر پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق بلال اکبر خان اور ملک شہزاد اعوان نے ایک مشترکہ ویڈیو بیان میں مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کیا۔
وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب نے بتایا کہ احتجاج کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں روکی گئی تمام لوڈ گاڑیوں کو فوری طور پر چھوڑ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن گاڑیوں کو روکے جانے سے مالکان کو مالی نقصان ہوا، اس کے ازالے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
بلال اکبر خان نے یقین دہانی کرائی کہ اگست میں ہونے والی ملک گیر ہڑتال کے دوران پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
دوسری جانب ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ وزیر ٹرانسپورٹ کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی اعتماد کی بنیاد پر اگست کی ہڑتال کے موقع پر دی گئی 40 روزہ مہلت میں مزید توسیع کرتے ہوئے حکومت کو 15 اکتوبر تک وقت دیا گیا ہے۔
ملک شہزاد اعوان کے مطابق اگست میں طے پانے والے معاہدے کے تحت دس ویلر گاڑیوں کو 35 ٹن وزن لے جانے کی اجازت پر پنجاب بھر میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور ٹرانسپورٹرز کو اس حوالے سے غیرضروری رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈائریکٹ ایچ ٹی وی ڈرائیونگ لائسنس کے وعدے پر بھی جلد پیش رفت شروع کی جائے گی۔ ان کے مطابق آر ٹی سیکریٹری، پی ٹی سیکریٹری، محکمہ خوراک اور پٹرولنگ پولیس کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کو بلاجواز ہراساں نہ کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
ٹرانسپورٹر رہنما بختاور نے کہا کہ مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے 15 اکتوبر تک اگست کی ہڑتال کے دوران کیے گئے تمام وعدوں پر مکمل عملدرآمد ہوجائے گا۔
ملک شہزاد اعوان نے ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر پیش رفت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے پنجاب حکومت کے ساتھ مذاکرات اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
مذاکرات کے دوران نثار حسین جعفری، بختاور خان اور پیر مشتاق سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔