آبنائے ہرمز میں 3 جہاز میزائل حملوں کا نشانہ بننے کا دعویٰ

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو نامعلوم میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں ایک آئل ٹینکر، ایک ایل این جی بردار جہاز اور ایک تجارتی بحری جہاز شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے ان واقعات کی مزید تفصیلات جمع کی جارہی ہیں، جبکہ حملوں میں ہونے والے ممکنہ نقصان سے متعلق بھی معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول سے متعلق ایرانی پاسداران انقلاب کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران اس آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا۔

سینٹ کام کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ہزاروں بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جسے امریکی فوج ایران کے مکمل کنٹرول کے دعوے کے خلاف دلیل قرار دیتی ہے۔

واضح رہے کہ خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں جانب سے بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق پیشکش مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم سفارتی رابطے اور مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔