ایران امریکا مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم معاملات پر پیش رفت نہ ہوسکی، کیونکہ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف میں خاطر خواہ لچک دکھانے پر آمادہ نظر نہیں آئے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی مذاکراتی ترجیحات میں آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی کا معاملہ نمایاں ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے ایران سے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹھوس رعایتیں طلب کی جارہی ہیں۔
ایران نے مذاکرات کو سابق مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک پر واپس لانے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کھولنے، بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور جوہری مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک شامل تھا، تاہم موجودہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق مذاکرات میں تعطل کے باعث دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ بعض امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب قطر ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ قطری ثالثوں نے دونوں فریقوں کے مؤقف میں موجود فاصلے کو کم کرنے کے لیے دو صفحات پر مشتمل ایک سمجھوتے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
ادھر ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی میزبانی کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔
محسن رضائی نے کہا کہ جس طرح امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی سے متحدہ عرب امارات کو سیکیورٹی حاصل نہیں ہوسکی، اسی طرح ان کے بقول غزہ جنگ سے متعلق اسرائیلی قیادت کی میزبانی بھی امارات کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات پر زور دیا کہ وہ گزشتہ جنگ سے سبق حاصل کرے، کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے اور ایرانی جزائر کے حوالے سے بے بنیاد دعوے کرنا بند کرے۔