پاکستان میں مون سون بارشوں میں نمایاں کمی

ال نینو کے اثرات کے باعث پاکستان میں رواں سال مون سون بارشوں کا سلسلہ معمول سے کمزور رہا، جس کے نتیجے میں گزشتہ 30 برس کے بعد ملک میں مون سون کے دوران بارشیں معمول سے 19.3 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی سے 30 ستمبر تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 120.5 ملی میٹر بارش ہوئی، جو معمول کی سطح کے مقابلے میں 19.3 فیصد کم ہے۔

صوبائی سطح پر سندھ میں بارشوں کی کمی سب سے زیادہ رہی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون سیزن کے دوران سندھ میں معمول سے 50.8 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی، جہاں تین ماہ کے دوران مجموعی بارش 71.1 ملی میٹر رہی۔

کراچی میں بھی مون سون بارشوں میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی اور شہر میں بارشیں معمول کے مقابلے میں 92 فیصد کم رہیں۔ بلوچستان میں بارشوں کی شرح معمول سے 33.7 فیصد کم، آزاد کشمیر میں 18.4 فیصد کم اور خیبرپختونخوا میں 16.3 فیصد کم ریکارڈ ہوئی۔

اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں بھی مون سون بارشیں معمول سے کم رہیں، جہاں کمی کی شرح 3.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب گلگت بلتستان ملک کا واحد خطہ رہا جہاں مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہاں بارشوں کی شرح معمول کے مقابلے میں 4.6 فیصد زیادہ رہی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال مون سون کی کمزور سرگرمی کی موسمیاتی وجوہات میں ال نینو کا بننا اور اس کے اثرات بھی شامل ہیں۔ ماہرین کی جانب سے پہلے ہی امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ ال نینو کے باعث جنوبی ایشیا میں مون سون کی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ال نینو عالمی اور علاقائی موسمیاتی نظام میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں مون سون کی شدت اور بارشوں کے معمول پر اثر پڑ سکتا ہے۔ رواں سال پاکستان کے علاوہ خطے کے دیگر پڑوسی ممالک میں بھی مون سون بارشیں معمول سے نمایاں کم ریکارڈ کی گئی ہیں۔