فرانس میں طلباء کے احتجاج میں شدت
فرانس میں تعلیمی سہولیات اور اسکولوں کے حالات کے خلاف طلباء کا احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا، مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
’جیو نیوز‘ کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں بڑی تعداد نوعمر طلباء کی بتائی جاتی ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج فرانس کے مزید تعلیمی اداروں تک پھیل گیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ کئی اسکولوں میں کلاس رومز طلباء کی تعداد کے اعتبار سے ناکافی ہیں، جس کے باعث گنجائش سے زیادہ طلباء کو ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کرنا پڑ رہی ہے۔ طلباء نے اساتذہ کی کمی اور طویل تعلیمی اوقات کے حوالے سے بھی شکایات کا اظہار کیا ہے۔
طلباء کے مطابق بعض اسکولوں میں شدید گرمی نے بھی تعلیمی ماحول کو متاثر کیا ہے، جس سے ان کے لیے معمول کے مطابق تعلیم حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
فرانس کے وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک طلباء اور اسکول کے عملے سمیت 119 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق زخمی ہونے والے عملے میں زیادہ تر اسکول پرنسپلز اور اساتذہ شامل ہیں۔