پنجاب ہیلتھ فاؤنڈیشن کی بندش پر غور

پنجاب حکومت نے 34 سال قبل قائم کیے گئے پنجاب ہیلتھ فاؤنڈیشن کو بند کرنے کے معاملے پر غور شروع کردیا ہے، جبکہ محکمہ خزانہ نے ادارے کی مالی حالت، اثاثوں، واجبات اور دیگر امور سے متعلق تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ کی جانب سے پنجاب ہیلتھ فاؤنڈیشن سے مالی معاملات، دستیاب اثاثوں، واجبات، انسانی وسائل اور قرضوں سمیت مختلف شعبوں کی مکمل معلومات مانگی گئی ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق فاؤنڈیشن نے اب تک 2 ہزار 100 سے زائد ڈاکٹرز کو مجموعی طور پر 2 ارب 50 کروڑ روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے نے اپنے انتظامی و آپریشنل اخراجات کے لیے حکومتی فنڈز پر انحصار نہیں کیا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب ہیلتھ فاؤنڈیشن کے بینک اکاؤنٹ میں اس وقت ایک ارب 32 کروڑ 80 لاکھ روپے موجود ہیں، جبکہ فراہم کیے گئے قرضوں کی واپسی کی شرح 98 فیصد بتائی گئی ہے۔

فاؤنڈیشن کے ذریعے صوبے میں 2 ہزار 100 صحت مراکز کے قیام میں معاونت فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں تقریباً 10 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ ادارے کی جانب سے اب تک 4 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کے وظائف بھی تقسیم کیے جاچکے ہیں۔

ترجمان محکمہ صحت پنجاب کے مطابق پنجاب ہیلتھ فاؤنڈیشن کی بندش کا معاملہ حکومتی کفایت شعاری اقدامات کے تناظر میں زیر غور ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ فاؤنڈیشن کے ملازمین اور دستیاب فنڈز کو دیگر متعلقہ اداروں میں ضم کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق فاؤنڈیشن کے مستقبل سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی باہمی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پنجاب ہیلتھ فاؤنڈیشن کا قیام 1992 میں ڈاکٹروں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کے مقصد سے عمل میں لایا گیا تھا۔