آئی ایم ایف شرائط، سرکاری اداروں کے قوانین میں ترامیم کیلئے حکومت متحرک
آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے کے لیے سرکاری اداروں سے متعلق قوانین میں مجوزہ ترامیم کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے حوالے سے حکومت نے سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران قانون سازی کا عمل آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی متحرک ہیں اور حکومت کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو قانون سازی میں تعاون پر آمادہ کرنے کے لیے رابطے کررہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اسپیکر چیمبر میں پیپلز پارٹی کے وفد کے ساتھ تفصیلی مشاورت ہوئی، جس میں آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے ضروری قانون سازی پر بات چیت کی گئی۔ پیپلز پارٹی اس سے قبل حکومت کے ساتھ بعض قانون سازی میں تعاون نہ کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر پیپلز پارٹی قانون سازی میں تعاون پر رضامند ہوتی ہے تو سرکاری اداروں سے متعلق مجوزہ ترامیم آئندہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق حکومت کو سرکاری اداروں کے مخصوص قوانین میں ترامیم کے لیے مقررہ اہداف اور ڈیڈ لائنز کے معاملے میں تاخیر کا سامنا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے ان قوانین کو مرکزی سرکاری اداروں کے گورننس فریم ورک اور ایس او ای ایکٹ سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا ہے۔
مجوزہ قانون سازی میں میری ٹائم ایکٹ سے متعلق ترامیم بھی شامل ہیں، جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے واپڈا کے گورننس ڈھانچے میں مؤثر اصلاحات پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اس سے قبل بھی ایس او ای قوانین میں ترامیم کے لیے متعدد مرتبہ نئی مہلت حاصل کرچکی ہے، جبکہ اب ان اصلاحات کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔
دوسری جانب نیب چیئرمین کی تقرری کے طریقہ کار کو مزید شفاف اور قواعد پر مبنی بنانے سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نیب آرڈیننس میں ترامیم زیر غور ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق ایس او ای قوانین میں اصلاحات کے سلسلے میں حکومت نے جنوری 2026 میں 6 متعلقہ قوانین پارلیمنٹ کو بھجوائے تھے۔ آئی ایم ایف کی دستاویز کے مطابق مزید 3 ایسے سرکاری اداروں کے قوانین میں ترامیم پر بھی پیش رفت درکار ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مختلف قوانین میں مجموعی طور پر 174 ترامیم کی ضرورت ہے، جبکہ تین سرکاری اداروں سے متعلق مخصوص قوانین میں مزید قانون سازی درکار ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے چوتھے جائزے کی منظوری کے لیے بورڈ کا اجلاس نومبر میں متوقع ہے۔ جائزے کی تکمیل اور آئندہ قسط کا اجرا پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت سے مشروط ہوگا، جبکہ پروگرام کے تحت پاکستان کو مزید ایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔