ایف بی آر کا ٹیکس نظام ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ، نئی ترامیم اور ٹیکس کریڈٹ کی تجویز

ایف بی آر نے ٹیکس نظام کو مزید ڈیجیٹل اور مؤثر بنانے کے لیے نئی ترامیم کا مسودہ جاری کردیا ہے، جس میں کاروباری اداروں کو کمپیوٹرائزڈ ٹیکس نظام سے منسلک کرنے پر ٹیکس کریڈٹ، ٹیکس ریٹرنز کی خودکار جانچ اور ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (اے ٹی ایل) سے متعلق نئی شرائط شامل کی گئی ہیں۔

مجوزہ قواعد کے تحت کاروبار کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ کامیابی سے انٹیگریٹ کرنے پر ٹیکس کریڈٹ دینے کی تجویز ہے۔ مجوزہ رول 33-یو کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعلقہ الیکٹرانک نظام اسی ٹیکس سال کے دوران خریدنا، نصب کرنا اور ایف بی آر کے نظام کے ساتھ کامیابی سے منسلک کرنا ضروری ہوگا۔

مجوزہ ضوابط میں ہارڈویئر، سافٹ ویئر، تنصیب، کنفیگریشن، انٹرفیس تیار کرنے، ٹیسٹنگ اور امپلیمنٹیشن سے متعلق بعض ایک مرتبہ ہونے والے اخراجات کو ٹیکس کریڈٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن اخراجات، ملازمین کی تنخواہیں، تربیت، معمول کے آپریشنل اخراجات، مرمت، سالانہ مینٹیننس اور سروس فیس اس کریڈٹ کا حصہ نہیں ہوں گی۔

مسودے کے مطابق ڈسکاؤنٹ، ریبیٹ، ریفنڈ، گرانٹ اور سبسڈی کی رقم کو حقیقی سرمایہ کاری سے منہا کیا جائے گا۔ ٹیکس کریڈٹ اسی ٹیکس سال کی ریٹرن میں حاصل کیا جاسکے گا جس سال ایف بی آر سسٹم کے ساتھ انٹیگریشن مکمل ہوگی، جبکہ ایک ہی اخراجات پر دوبارہ ٹیکس کریڈٹ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرنز کی خودکار جانچ کے لیے بھی نیا نظام تجویز کیا ہے۔ یہ نظام مختلف دستیاب معلومات کو آپس میں ملا کر ریٹرنز میں موجود ممکنہ غلطیوں، تضادات اور قانونی تقاضوں سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرے گا۔

مجوزہ طریقہ کار کے تحت آئی آر آئی ایس کے ذریعے ٹیکس دہندہ کو کسی ممکنہ خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے پیشگی اطلاع دی جائے گی اور وضاحت یا جواب جمع کرانے کے لیے کم از کم سات دن کا وقت دیا جائے گا۔ جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں مزید کم از کم سات دن کی یاددہانی بھیجی جائے گی، جبکہ قانونی کارروائی شروع کرنے سے قبل متعلقہ شخص کو غلطی کی اصلاح کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

دیر سے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والے افراد کے لیے بھی ایک سہولت تجویز کی گئی ہے۔ ایسے ٹیکس دہندگان انڈرٹیکنگ اور آئی آر آئی ایس کے ذریعے فارم اے ٹی ایل-یو جمع کراکے سرچارج سے استثنیٰ حاصل کرسکیں گے۔ تاہم اگر وہ چھ ماہ کے اندر جائیداد خریدتے ہیں یا کسی پراپرٹی میں ملکیتی حق یا مفاد حاصل کرتے ہیں تو یہ سہولت واپس لی جاسکے گی۔

شپنگ سیکٹر کے لیے بھی آن لائن ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت غیر مقیم شپ اونرز، چارٹررز اور مجاز شپنگ ایجنٹس اپنی ریٹرنز آئی آر آئی ایس کے ذریعے جمع کرائیں گے۔

مجوزہ نظام کے مطابق پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے جہاز سے متعلق معلومات خودکار انداز میں ایف بی آر کے نظام کو منتقل ہوں گی، جبکہ ہر وی آئی آر کے لیے الیکٹرانک ریٹرن بھی تیار کی جائے گی۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ مسودے میں شامل ترامیم پر اعتراضات اور تجاویز مقررہ مدت کے اندر ایف بی آر کو جمع کرائی جاسکیں گی۔