سعودی وزارتِ صحت کی عازمینِ حج کے لیے نئی اور اہم ہدایات جاری—کیا آپ بھی متاثر ہو سکتے ہیں؟

سعودی عرب نے حج کے لیے نئی صحت اور ویکسینیشن ہدایات جاری کر دیں

سعودی عرب کی وزارتِ صحت اور پبلک ہیلتھ اتھارٹی نے آئندہ حج کے لیے عازمینِ حج کے لیے نئی صحت اور ویکسینیشن ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کا مقصد عازمین کی حفاظت کو یقینی بنانا اور حج کے دوران طبی پیچیدگیوں کو کم کرنا ہے۔

سنگین بیماریوں والے افراد پر پابندیاں

نئی ہدایات کے مطابق ایسے افراد جو سنگین طبی مسائل کا شکار ہیں، ان کے حج اجازت نامے جاری نہ ہونے کا امکان ہے۔ ان میں گردوں کی خرابی کے مریض، دل کے شدید امراض، جگر کی پیچیدہ بیماریاں اور شدید دماغی مسائل والے افراد شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ڈیمینشیا کے مریض اور بہت زیادہ عمر کے افراد بھی اس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ اسی طرح آخری سہ ماہی میں حاملہ خواتین کے لیے بھی احتیاطی پابندیاں رکھی گئی ہیں۔

حج کے لیے صحت مند ہونا ضروری قرار

وزارتِ صحت نے واضح کیا ہے کہ حج کی ادائیگی کے لیے جسمانی طور پر صحت مند ہونا لازمی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ عازمین مناسک کو محفوظ اور آسانی سے ادا کر سکیں۔

ویکسینیشن کو لازمی قرار دے دیا گیا

نئی ہدایات کے مطابق حج سے قبل گردن توڑ بخار سے بچاؤ کی ویکسین لگوانا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ مخصوص گروپس کے لیے کووڈ-19 ویکسین بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔

ان گروپس میں بزرگ افراد اور وہ حاملہ خواتین شامل ہیں جنہیں پہلے ویکسین لگ چکی ہو۔ ان کے لیے بوسٹر ڈوز بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

مقصد: محفوظ اور منظم حج

حکام کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد عازمینِ حج کی صحت کا تحفظ ہے۔ ساتھ ہی حج کے دوران کسی بھی بڑے طبی بحران سے بچاؤ بھی اس پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

Outbound Links

https://www.moh.gov.sa/
https://www.who.int/
https://www.haj.gov.sa/
https://www.cdc.gov/