شہید شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس: تعارف اور خدمات
پاکستان کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت کی خبر نے دینی حلقوں کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ اُتمانزئی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ اس وقت وہ درسِ حدیث دینے کے لیے جا رہے تھے۔
علمی خدمات اور تدریس
مولانا محمد ادریس نے اپنی زندگی علمِ دین کی خدمت میں گزاری۔ خاص طور پر وہ صحیح بخاری پڑھانے کے حوالے سے معروف تھے۔
انہوں نے دارالعلوم نعمانیہ اور دارالعلوم حقانیہ میں طویل عرصہ تدریس کی۔ اس دوران ہزاروں طلبہ نے ان سے علم حاصل کیا۔ ایک وقت میں تقریباً 2400 طلبہ ان کے درس میں شریک ہوتے تھے، اس لیے ان کی علمی حیثیت بہت بلند سمجھی جاتی تھی۔
دینی اور سیاسی کردار
تعلیم کے ساتھ ساتھ مولانا محمد ادریس نے دینی اور سیاسی میدان میں بھی کردار ادا کیا۔ وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) سے وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ وہ صوبائی سرپرست اعلیٰ بھی رہے۔
اسی طرح وہ سابق رکن اسمبلی بھی تھے، جہاں انہوں نے عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔ اس وجہ سے انہیں عوام اور علماء دونوں میں عزت حاصل تھی۔
شہادت کا واقعہ
افسوسناک واقعے میں مولانا محمد ادریس پر فائرنگ کی گئی۔ اس کے بعد انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک بڑے عالم کا نقصان ہے بلکہ اس سے سیکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
اثرات اور یادیں
مولانا محمد ادریس کے ہزاروں شاگرد آج مختلف جگہوں پر دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کا علمی اثر طویل عرصے تک قائم رہے گا۔
مزید یہ کہ ان کی سادگی اور اخلاص کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نتیجتاً، ان کی کمی دینی دنیا میں شدت سے محسوس کی جائے گی۔
نتیجہ
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا محمد ادریس کی زندگی علم اور خدمت سے بھرپور تھی۔ اس لیے ان کی شہادت ایک بڑا نقصان ہے۔ تاہم ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
Outbound Links
https://www.dawn.com/
https://www.bbc.com/urdu
https://www.thenews.com.pk/
https://www.aljazeera.com/
https://www.reuters.com/