اسلام آباد ہائی کورٹ نے یوٹیوبر راجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے فوری طور پر نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ راجب بٹ کا نام لسٹ میں برقرار رکھنا غیر قانونی ہے اور اس کے لیے کوئی مؤثر قانونی جواز موجود نہیں۔
منگل کے روز جسٹس اعظم خان نے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا، جس کے بعد راجب بٹ کی درخواست منظور کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا گیا۔ سماعت کے دوران راجب بٹ کی جانب سے بیرسٹر احمد کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ راجب بٹ کا نام نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی درخواست پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ NCCIA کو راجب بٹ کا نام لسٹ سے نکالے جانے پر کوئی اعتراض نہیں۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ راجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں رکھنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ یہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ عدالت کے مطابق جب راجب بٹ NCCIA کے سامنے پیش ہو چکے ہیں تو اس کے بعد ان پر سفری پابندی جاری رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد باقی نہیں رہتی۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ راجب بٹ کا نام فوری طور پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا جائے۔
کراچی میں مقدمے کی کارروائی
اس سے قبل 24 اپریل کو کراچی کی ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے اسلامی شعائر کی مبینہ توہین سے متعلق مقدمے میں راجب بٹ کی عبوری حفاظتی ضمانت منسوخ کر دی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ملزم مسلسل سماعتوں پر پیش نہیں ہو رہا۔
عدالتی حکم کے مطابق راجب بٹ 13 جنوری اور 31 مارچ کو بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے، تاہم اس وقت عدالت نے انصاف کے تقاضوں کے تحت ان کی غیر حاضری کو نظر انداز کر دیا تھا۔
مزید یہ کہ 10 اپریل کو اسی عدالت نے کیس میں شواہد کے غائب ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو راجب بٹ کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حالیہ حکم صرف راجب بٹ کے نام کو پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں رکھنے کے معاملے سے متعلق ہے، اور عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ NCCIA کے سامنے پیشی کے بعد اس پابندی کو جاری رکھنا قانونی طور پر درست نہیں۔