نئی امریکی پابندیوں پر ایرانی وزیر خارجہ کا سخت ردعمل

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے مزید پابندیاں عائد کیے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ اور پابندیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہ ہونے کے بعد امریکا نے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید اقتصادی پابندیوں کا راستہ اختیار کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے بلکہ اس کے برعکس یہ تنازع واشنگٹن کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا گزشتہ 47 برس سے ایران پر پابندیاں عائد کرتا آرہا ہے اور اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف جنگ بھی کی گئی۔

عراقچی نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے نتیجے میں امریکا کی عالمی سطح پر ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق تہران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ میں حالیہ عرصے کے دوران مزید شدت آئی ہے اور نئی پابندیاں اسی پالیسی کا تسلسل ہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے مالی وسائل محدود کرنے کی مہم سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

امریکی ترجمان کے مطابق امریکا ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کا سلسلہ جاری رکھے گا اور تہران کے مالی وسائل کو محدود کرنے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔