وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ”ہیپی افریقہ ڈے“ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے افریقی ثقافت، موسیقی اور ورثے کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دن پاکستان کے لیے افریقہ کے ساتھ مشترکہ تاریخ اور مشترکہ امنگوں کی یاد دہانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افریقی خطہ اس وقت تبدیلی کے اہم دور سے گزر رہا ہے اور دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔ اس سال کو پانی کے پائیدار استعمال سے منسوب کرنا بھی قابلِ تحسین اقدام ہے کیونکہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی اہمیت کو خطے کے لوگ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افریقہ ڈے میں شرکت ان کے لیے اعزاز کی بات ہے، اور یہ دن ثقافتی تنوع، ہم آہنگی اور افریقی اقوام کی تاریخی جدوجہد اور کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افریقی ممالک نوآبادیاتی دور کے مشترکہ تجربات رکھتے ہیں، جو دونوں کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون کی مضبوط بنیاد ہیں۔ پاکستان کی ”انگیج افریقہ“ پالیسی اسی تعلق کو مزید وسعت دینے کے لیے تشکیل دی گئی ہے، جس کے تحت مصر سے جنوبی افریقہ اور سینیگال سے ایتھوپیا تک تعلقات کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ پالیسی افریقہ کے ساتھ سیاسی، معاشی اور ثقافتی روابط کو پائیدار بنیادوں پر بڑھانے کے عزم کی عکاس ہے۔ پاکستان افریقہ کو صرف ایک سفارتی شراکت دار نہیں بلکہ اپنی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں افریقہ میں اپنے سفارتی نیٹ ورک کو وسعت دی ہے جبکہ دونوں خطوں کے درمیان تجارت، تعلیم، صحت، دفاع اور استعداد کار میں اضافے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ افریقہ کی تاریخ حوصلے، جدوجہد اور عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے تمام افریقی اقوام کو افریقہ ڈے کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افریقہ کی دوستی مستقبل میں بھی مزید مضبوط اور دیرپا رہے گی۔