امریکا میں جنگلاتی آگ کی روک تھام کے لیے اے آئی ڈرونز کی آزمائش
امریکا میں جنگلاتی آگ کو ابتدائی مرحلے میں قابو کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودکار ڈرونز کی آزمائش کی جارہی ہے۔ جدید ڈرونز کا مقصد آگ لگنے کے فوراً بعد اس کا سراغ لگانا اور اسے پھیلنے سے پہلے ہی بجھانے کی کوشش کرنا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات و فائر پروٹیکشن نے حال ہی میں خودکار فائر فائٹنگ ڈرونز کے تجربات کیے۔ اسی طرح الاسکا میں منعقد ہونے والے ایک عالمی مقابلے کے دوران بھی ایسے خودکار نظام استعمال کیے گئے، جنہیں چھوٹی سطح کی آگ کی فوری نشاندہی اور تدارک کے لیے آزمایا گیا۔
ان ڈرونز میں مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر وژن اور مختلف جدید سینسرز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی آگ کے مقام کی فوری نشاندہی کرنے کے بعد وہاں فائر فائٹنگ فوم پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔
یہ نظام بالخصوص ان دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں کے لیے تیار کیے جارہے ہیں جہاں فائر فائٹرز یا بڑے ہوائی جہازوں کو پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان ڈرونز کا مقصد بڑے فائر فائٹنگ طیاروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ہنگامی کارروائی میں ان کی معاونت اور ابتدائی ردعمل کو تیز کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے ابتدائی چند منٹ اس پر قابو پانے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں اور خودکار ڈرونز اسی عرصے میں فوری کارروائی کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔
تاہم اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں موسمی حالات، دشوار گزار جغرافیہ، ڈرونز کی محدود گنجائش اور دیگر فضائی ذرائع کے ساتھ محفوظ رابطہ جیسے چیلنجز بدستور موجود ہیں۔
امریکا کی بعض فائر فائٹنگ ایجنسیاں ان ڈرونز کی آزمائش کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے انہیں تجرباتی مرحلے سے نکال کر حقیقی آپریشنز میں استعمال کرنے کی تیاری کررہی ہیں۔