امریکہ نے اسرائیل کی امریکہ ایران معاہدہ دیکھنے کی درخواست مسترد کر دی
امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے کے حوالے سے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے معاہدے کا مکمل متن دیکھنے کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔
امریکی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام کو معاہدے کے اہم نکات پر بریفنگ دی گئی، تاہم انہیں مسودے کی مکمل دستاویز تک رسائی فراہم نہیں کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اہم معاہدے پر دستخط کی تقریب جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں منعقد ہونے کا امکان ہے، جبکہ اس سفارتی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی مفاہمتی دستاویز کے تحت امریکا ایرانی تیل کی تجارت اور اس سے وابستہ بینکاری سرگرمیوں پر نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔ دونوں ممالک نے حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فریقین نے 60 روز کے اندر جامع معاہدے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس عبوری مدت میں ایران اپنا موجودہ جوہری پروگرام جاری رکھ سکے گا، جبکہ امریکا نئی اقتصادی پابندیاں یا خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافے سے گریز کرے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حتمی مذاکرات میں افزودہ جوہری مواد سمیت دیگر حساس امور زیر بحث آئیں گے۔ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ امریکا نے مرحلہ وار پابندیاں نرم کرنے یا ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے بین الاقوامی قانونی حیثیت دی جا سکتی ہے۔