امریکا نے خود ہی جنگ روک دی، مذاکرات کی شرائط بھی قبول نہیں، ایران

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) واشنگٹن اور تہران کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور مؤخر‘وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج اسلام آباد نہیں آئیں گے جبکہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے چیف آف آرمی اسٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہبازشریف کی درخواست پر ایران کو مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی خاطر جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈائیلاگ کے حتمی نتیجے تک فوج کوایران پر حملوں سے روکدیا ہے تاہم ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی ‘ امریکا مذاکرات کے لیے انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے ۔دوسری جانب تہران نے ڈائیلاگ کیلئے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر خود ہی سیز فائر میں توسیع کی ہے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر کا کہنا ہے کہ ہارنے والا فریق شرائط عائد نہیں کرسکتاجبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کا ایرانی آئل ٹینکر پرقبضہ اعلان جنگ کے مترادف ہے‘اپنا دفاع اور بدمعاشی کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں ۔پاسداران انقلاب نے خبردارکیاہے کہ اگرجنگ دوبارہ چھڑی توخطے کی تیل کی صنعت کو تباہ کر دیا جائے گا ۔اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب امیر سعید ایروانی کے مطابق اگر واشنگٹن بحری محاصرہ ختم کردے تو بات چیت کیلئے تیار ہیں ۔چینی وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیاہے کہ فریقین جنگ بندی مذاکرات کی رفتار برقرار رکھیں گے‘قطر کا کہنا ہے کہ پوری دنیا ان مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے‘ہم بھی اس میں شامل ہیں‘ مذاکرات کے حوالے سے امریکا سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے‘جبکہ جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نےکہاہے کہ ہم ایران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسلام آباد آئے اور امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرے‘سب کی خواہش ہے اس تنازعے کو جلد از جلد حل کیا جانا چاہیے‘تسنیم نیوز ایجنسی نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران نے باضابطہ طور پر امریکا کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ یہ مذاکرات وقت کا ضیاع ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکی فریق کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ آج اسلام آبادمیں موجود نہیں ہوگی اور فی الحال مذاکرات میں شرکت کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔دو علاقائی عہدیداروں نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہےکہ واشنگٹن اور تہران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جنگ بندی مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کریں گے جبکہ دونوں فریقین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئی تو مزید لڑائی کے لیے تیار ہیں‘ علاقائی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستانی ثالثوں کو اس بات کی تصدیق موصول ہوئی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف آج اسلام آباد پہنچیں گے ۔ قبل ازیں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا مذاکرات کے لیے انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے اورآبنائے ہرمز کو کنٹرول کررہاہے ‘ ایران کے پاس مذاکراتی وفد بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے‘ ہمارے درمیان ایک بہترین معاہدہ ہوگا‘ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ دشمن چاہتاہے ہم ہتھیار ڈال دیں مگر تہران دھمکیوں میں نہیںآئے گا جبکہ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے واضح کیا ہے کہ ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران کی انگلی ٹریگر پر اور دفاعی فورسز مکمل تیاری کی حالت میں ہوں گی‘ ایرانی مذاکراتی ٹیم قومی مفادات پر معمولی سمجھوتہ بھی نہیں کرے گی‘ایک سینئرایرانی عہدیدار نےبرطانوی خبر ایجنسی کو بتایاکہ اگر واشنگٹن دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی ترک کر دے تو ایران مذاکرات میں شرکت کر سکتا ہے۔پاکستان، امریکا کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں کررہا ہے کہ وہ ناکہ بندی ختم اور ایرانی جہازاور اس کے عملے کو رہا کرے جسے اتوار کوامریکی افواج نے قبضے میں لے لیا تھا۔