اسرائیلی آباد کاریوں کی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں ۔ عاصم افتخار

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور فلسطین کی موجودہ صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے فلسطینی عوام کے حقوق اور خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حالات مسلسل تشویشناک ہوتے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری اور تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ای ون منصوبہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے جغرافیائی ربط کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے مالی وسائل کی بندش وہاں کے انتظامی نظام اور عوامی خدمات پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

انہوں نے غزہ کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی بڑی آبادی انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہے اور بنیادی ضروریات تک رسائی محدود ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے باوجود جانی نقصان کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے فلسطینی بچوں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی رپورٹس میں سامنے آنے والے حقائق انتہائی تشویشناک ہیں اور ان کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبادکاری کی سرگرمیوں، زمینوں پر قبضے، مکانات کی مسماری اور جبری نقل مکانی جیسے اقدامات کو فوری طور پر روکا جائے۔ ساتھ ہی فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے مالی وسائل بحال کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غزہ میں پائیدار، مکمل اور مستقل جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے میں دیرپا امن کی ضمانت سمجھتا ہے۔