حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد بڑی کارروائی کی .وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا حامی ہے، تاہم عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری اور ترجیح ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ “عزمِ استحکام” پالیسی کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر حملوں سمیت مختلف دہشت گرد کارروائیوں کے بعد سکیورٹی اداروں نے پاک افغان سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر منظم زمینی آپریشنز کیے۔
انہوں نے کہا کہ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے وابستہ متعدد عناصر مارے گئے۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ 28 جون 2026 کو ضلع باجوڑ میں سرحدی علاقے کے قریب ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، جس میں اہم دہشت گرد کمانڈر خان فروش عرف زبال سمیت جماعت الاحرار سے وابستہ تین دہشت گرد ہلاک جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن “غضب للحق” کے تسلسل میں حاصل ہونے والی مصدقہ معلومات کی بنیاد پر 28 اور 29 جون کی درمیانی شب سرحد پار دہشت گردوں کے مبینہ مراکز اور کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں کے دوران پکتیا، پکتیکا اور کنڑ کے علاقوں میں موجود تین مقامات کو کامیابی سے تباہ کیا گیا۔
عطا تارڑ کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں مزید 25 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کے زیر استعمال اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ کر دیا گیا۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے، لیکن ملکی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔