مریم نواز کے دہشت گردی سے متعلق بیان پر بیرسٹر گوہر کا ردعمل

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دہشت گردی سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر محتاط اور تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں مریم نواز سے ایسے بیان کی توقع نہیں تھی۔ ان کے مطابق کسی مخصوص صوبے کو دہشت گردی کے معاملے کے ساتھ جوڑنے سے ملک میں جاری سیاسی اور علاقائی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ایک طرف ملک میں دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار بھارتی خفیہ ایجنسی را کو قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے متعلق بیانات میں شامل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ قومی ترجیح ہونی چاہیے اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جانا ضروری ہے۔

بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کے معاملے پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا تو ملک کے سیاسی اور مجموعی حالات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی تھی۔

انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور اسے افسوسناک قرار دیا۔ ان کے مطابق عدلیہ کی جانب سے جاری کیے گئے واضح احکامات پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ عدالتی ہدایات کے باوجود عمران خان کو علاج کی غرض سے اسپتال منتقل نہیں کیا گیا، جبکہ پارٹی رہنماؤں اور اہلخانہ کو ان سے ملاقات کا حق بھی نہیں دیا جارہا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے درخواستوں کی سماعت میں مشکلات پیش آتی تھیں اور بعد میں عدالتوں سے فیصلے آنے کے باوجود ان پر عملدرآمد ایک الگ مسئلہ بن گیا۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں سے رابطے کی اجازت دینے کے حوالے سے ہائیکورٹ کا حکم بھی موجود ہے۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے سیاسی مفادات کے لیے صوبائی سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے اور آئندہ بھی صوبائی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کے مؤقف پر قائم رہے گی