بھارت میں اجتماعی شادی کے نام پر بڑا فراڈ

مئی 24 بروز اتوار مدھیہ پردیش کے ضلع دیواس میں واقع ماتا ٹیکری مندر میں متعدد نوجوان اپنی شادی کی تقریب کے انتظار میں موجود تھے۔ کچھ افراد نے پھولوں کے ہار پہن رکھے تھے جبکہ ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کئی لوگ کرائے کی گاڑیوں کے ذریعے وہاں پہنچے تھے، لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک مبینہ دھوکہ دہی کا حصہ بن چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق دیواس میں اجتماعی شادیوں کے نام پر ایک منظم فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس کے سلسلے میں چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جبکہ دو ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جیویرسن بہادریہ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے شادی کروانے کا جھانسہ دے کر متعدد افراد سے رقم وصول کی۔ پولیس اب تک دو ملزمان کو حراست میں لے چکی ہے جبکہ نیٹ ورک کے دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔

تحقیقات کے مطابق شادی کے خواہش مند نوجوانوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ان کی شادیاں اندور کے ایک ادارے میں رہنے والی لڑکیوں سے کروائی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے رجسٹریشن، دستاویزات اور دیگر انتظامات کے نام پر مختلف مراحل میں رقم وصول کی جاتی رہی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد سے رابطہ کرنے کے بعد انہیں مبینہ دلہنوں کی تصاویر بھی بھیجی گئیں۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل کی گئی تھیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

متاثرہ خاندانوں کے مطابق انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ لڑکیاں شادی کے لیے تیار ہیں اور تقریب میں اہم سرکاری شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔ بعض افراد کو یہ لالچ بھی دیا گیا کہ شادی کے بعد انہیں حکومتی امداد کے طور پر 51 ہزار روپے کا چیک دیا جائے گا۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پورا فراڈ ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے انجام دیا جا رہا تھا، جو مختلف ذرائع سے شادی کے خواہش مند افراد تک پہنچ کر انہیں جھوٹے وعدوں اور جعلی معلومات کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتا تھا۔