2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کو بھارت کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان نتائج نے نہ صرف ریاست کی سیاست کا رخ تبدیل کیا بلکہ ملک میں سیکولر سیاست کے مستقبل پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
انتخابی نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 207 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جبکہ 2021 میں اس کے پاس صرف 77 سیٹیں تھیں۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) 80 نشستوں تک محدود ہو گئی، جس کے ساتھ ہی ریاست میں اس کی تقریباً پندرہ سالہ حکومت اختتام پذیر ہو گئی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مغربی بنگال میں بی جے پی یا کسی بڑی دائیں بازو کی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع ملا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی ایم سی کی شکست صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی کی ناکامی کا نتیجہ بھی ہے۔ خاص طور پر کانگریس پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے ریاست کی تمام 294 نشستوں پر الگ الیکشن لڑ کر بی جے پی مخالف ووٹ تقسیم کیے۔ اگرچہ کانگریس خود صرف دو نشستیں جیت سکی، لیکن اپوزیشن ووٹ بینک میں تقسیم نے بی جے پی کے لیے راستہ آسان بنا دیا۔
اسی تناظر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) اور اس کے سربراہ اسد الدین اویسی کا کردار بھی سیاسی بحث کا موضوع بنا رہا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مختلف ریاستوں میں AIMIM کی انتخابی مہم نے مسلم ووٹوں کو تقسیم کیا، جس کا فائدہ بالآخر بی جے پی کو پہنچا۔ اس سے قبل بہار، اتر پردیش اور مہاراشٹر کے انتخابات میں بھی ایسی ہی بحث سامنے آ چکی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی زیرِ بحث رہا کہ اویسی نے بعض قومی معاملات پر بی جے پی حکومت کے مؤقف کے قریب رہتے ہوئے ایسے بیانات دیے جنہیں اپوزیشن جماعتوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناقدین کے مطابق اس طرزِ سیاست نے اقلیتی ووٹروں میں مزید الجھن پیدا کی۔
انتخابات کے دوران ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے۔ رپورٹس کے مطابق کئی علاقوں میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹوں سے غائب ہونے کی شکایات موصول ہوئیں، جس پر اپوزیشن جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا۔
اب جبکہ بی جے پی مغربی بنگال میں حکومت بنانے جا رہی ہے، اقلیتی برادری کے بعض حلقوں میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ ریاست میں سماجی اور سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دیگر بی جے پی زیرِ اقتدار ریاستوں میں اقلیتوں سے متعلق بعض پالیسیوں اور واقعات کے باعث بنگال کے مسلمان بھی غیر یقینی صورتحال محسوس کر رہے ہیں۔
ادھر انتخابی نتائج کے فوراً بعد مختلف علاقوں سے کشیدگی اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ بعض بی جے پی رہنماؤں کے بیانات نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں مغربی بنگال کی سیاست اور سماجی صورتحال پورے بھارت کے لیے اہمیت کی حامل ہوگی۔