ایکسپورٹس اور ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے بجٹ میں اقدامات کیے گئے ہیں ۔ وزیر خزانہ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے اور ملک معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر ترقی اور نمو کے سفر میں داخل ہو چکا ہے۔

بجٹ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ معاشی استحکام کے بعد ترقی کے اہداف پر توجہ دی جائے گی، اور اب معیشت اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی معلومات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غلط معلومات کے ذرائع کی نشاندہی اور احتساب ضروری ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق نئے بجٹ میں برآمدات کے فروغ، ٹیکس نظام میں بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے استحکام کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی مختص کی گئی ہے جبکہ سپر ٹیکس کے خاتمے پر بھی اتفاق رائے پایا گیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے بعض ٹیکس شرحوں میں کمی کی گئی ہے۔ چھوٹے کسانوں کے لیے خصوصی زرعی معاونت پروگرام متعارف کرایا گیا ہے جبکہ زرعی مشینری اور آلات پر بعض ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے وزیراعظم یوتھ لون پروگرام بھی جاری رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق ترسیلاتِ زر اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے سے معیشت مزید مستحکم ہوگی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کے تحت جدید اور خودکار ٹیکس نظام متعارف کروایا جا رہا ہے جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے آبادی میں اضافے کو بھی ایک اہم قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وسائل اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

اس موقع پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کے لیے مختلف سہولتیں رکھی گئی ہیں اور حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوامی ریلیف کو ترجیح دی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بجٹ میں مختلف طبقات کے لیے آسانیاں پیدا کی گئی ہیں اور حکومت نے اپنے وعدوں کے مطابق عوامی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق ایف بی آر میں اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت کے اقدامات سے ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے معاشی استحکام حاصل ہوا ہے اور عالمی سطح پر بھی پاکستان کی معاشی بہتری کو سراہا جا رہا ہے۔