سعودی عرب کے لیے تھریٹ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر سعودی عرب کی قومی سلامتی بھی حرمین شریفین سے جڑی ہے: پاکستانی فوج کے ترجمان

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کو درپیش کسی بھی خطرے کو پاکستان اپنی سلامتی سے جڑا معاملہ سمجھتا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی پاکستان کے امن اور دفاع کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے یہ بات ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہی، جس میں پوچھا گیا تھا کہ اگر مستقبل میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی یا جارحیت کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو کیا سعودی عرب پاکستان کا ساتھ دے سکتا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف سفارتی نہیں بلکہ گہرے تاریخی، مذہبی اور دفاعی روابط پر مبنی ہیں، جو کئی دہائیوں سے مضبوط چلے آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے محافظین کے طور پر خدمات انجام دینا ہر پاکستانی کے لیے اعزاز کی بات ہے، کیونکہ سعودی عرب نے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان اور اس کی افواج پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی قومی سلامتی کا تعلق براہِ راست حرمین شریفین کے تحفظ سے ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جس طرح پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، اسی طرح سعودی عرب بھی پاکستان کے دفاع اور استحکام کو اہم تصور کرتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کرنے والا ملک ہے اور جو عہد کیا جاتا ہے، اسے پورا کرنا ہماری روایت اور ذمہ داری ہے۔