پٹرول مہنگا اور 30 بلٹ پروف گاڑیوں کا آرڈر، فواد چودھری کی حکومت پر تنقید

سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوراً بعد نئی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے فیصلے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں فواد چودھری نے سوال اٹھایا کہ ایک ہی وقت میں عوام پر پٹرول کی قیمت بڑھانے کا بوجھ ڈالنے کے بعد 6.6 ارب روپے کی لاگت سے 30 نئی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کیسے درست قرار دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمرانوں کو عوام کی مشکلات کا احساس نہیں۔ فواد چودھری نے زور دیا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومتی اخراجات کے حوالے سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔

سابق وزیر نے اسلامی سربراہی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس نوعیت کے بین الاقوامی اجلاس کے لیے غیر ضروری سرکاری اخراجات نہیں کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق اُس وقت صنعتکاروں سے عارضی طور پر گاڑیاں حاصل کرکے کانفرنس کے انتظامات مکمل کیے گئے تھے۔

فواد چودھری نے کہا کہ اُس دور کی سربراہی کانفرنس آج بھی پاکستان کی تاریخ کے نمایاں واقعات میں شمار ہوتی ہے، جبکہ موجودہ حکومت کو بھی قومی وسائل استعمال کرتے ہوئے سادگی اور کفایت شعاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں اس نوعیت کے فیصلے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

فواد چودھری نے حکومتی فیصلوں کو ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سرکاری اخراجات پر نظرثانی اور عوامی مشکلات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔