ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں ہدف سے زائد ٹیکس وصول کرلیا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مقررہ ٹیکس ہدف سے زیادہ محصولات اکٹھے کرلیے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 83.5 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ اس عرصے کے لیے مقررہ ہدف 3 ہزار 53 ارب روپے تھا۔ اس طرح ایف بی آر نے ہدف کے مقابلے میں 30.5 ارب روپے اضافی جمع کیے۔

اعلامیے کے مطابق پہلی سہ ماہی کی ٹیکس وصولی گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد زیادہ رہی۔ ریفنڈز سے قبل ایف بی آر کی مجموعی وصولیاں 3 ہزار 286.7 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔

صرف ستمبر کے دوران ایف بی آر نے 1 ہزار 360.7 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا، جبکہ ماہانہ ہدف 1 ہزار 343 ارب روپے مقرر تھا۔ یوں ستمبر میں ہدف سے 17.7 ارب روپے زیادہ وصول ہوئے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں ماہانہ ٹیکس وصولی میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایف بی آر کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران ٹیکس دہندگان کو 203.2 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی میں 159 ارب روپے کے ریفنڈز کی ادائیگی کی گئی تھی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے باوجود اس شعبے سے حاصل ہونے والی وصولی میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح سیلز ٹیکس کی وصولی بھی 11 فیصد بڑھی، جس سے انکم ٹیکس کی وصولی میں کمی کے اثرات کو کسی حد تک پورا کرنے میں مدد ملی۔

ایف بی آر کے مطابق ٹیکس اصلاحات کے تیسرے سال بھی محصولات میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کرنے اور ڈیجیٹل ذرائع سے نگرانی بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق رواں مالی سال کے لیے سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں سالانہ ہدف کا تقریباً پانچواں حصہ حاصل کرلیا گیا، جبکہ باقی تین سہ ماہیوں کے دوران مزید 12.18 ٹریلین روپے ٹیکس جمع کرنا ہوگا۔