ایف بی آر نے چھوٹے تاجروں کے لیے مجوزہ فکسڈ ٹیکس اسکیم کی تفصیلات جاری

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف کرائی جانے والی فکسڈ ٹیکس اسکیم کا مجوزہ طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ اس اسکیم سے سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروباری ٹرن اوور رکھنے والی ایک دکان کے مالکان فائدہ اٹھا سکیں گے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مجموعی کاروباری ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق اگر یہ اسکیم کامیاب رہی تو قومی خزانے کو سالانہ 50 ارب روپے سے زائد اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق یہ اسکیم مکمل طور پر رضاکارانہ ہوگی، یعنی دکاندار چاہیں تو اس میں شامل ہونے کے بجائے معمول کے مطابق اپنا انکم ٹیکس ریٹرن بھی جمع کرا سکتے ہیں۔ تاہم اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس نقد ادا کرنا ضروری ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ دکانوں کے مالک اس سہولت کے اہل نہیں ہوں گے، جبکہ ٹائر ون ریٹیلرز، جیولرز اور پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے افراد بھی اس اسکیم کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گے۔

ایف بی آر نے مجوزہ قواعد پر عوام اور متعلقہ حلقوں سے سات روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کر لی ہیں۔ رجسٹریشن کا عمل آئی آر آئی ایس پورٹل، موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس دفتر کے ذریعے مکمل کیا جا سکے گا۔ اسکیم میں شامل ہونے والے اہل دکانداروں کو خصوصی “گرین پلیٹ” بھی جاری کی جائے گی۔

مجوزہ ضوابط کے مطابق گرین پلیٹ حاصل کرنے والے تاجروں کے ٹیکس معاملات کے سلسلے میں ایف بی آر کے افسران ان کی دکانوں میں داخل نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ انہیں پوائنٹ آف سیل (POS) مشین نصب کرنے کی شرط سے بھی استثنا حاصل ہوگا، جبکہ وہ معمول کے ٹیکس آڈٹ سے بھی مستثنیٰ رہیں گے۔

اسکیم کے تحت تاجروں کو اپنے خالص منافع، دیگر ذرائع آمدن اور ادا کیے گئے مجموعی ٹیکس کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کے ساتھ غیر منقولہ جائیداد، بینک بیلنس، دستیاب نقد رقم اور دیگر اثاثوں کی معلومات بھی ریٹرن فارم میں درج کرنا لازمی ہوگی۔

ایف بی آر نے رجسٹریشن کے لیے ایک صفحے پر مشتمل آسان ٹیکس ریٹرن فارم بھی متعارف کرایا ہے، جس میں کاروبار کا نام، پتہ، شناختی کارڈ نمبر، کاروبار کی نوعیت، سالانہ فروخت، خریداری اور کاروباری اخراجات کی معلومات درج کرنا ہوں گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کسی تاجر کی کاروباری سرگرمی غیر معمولی حد تک بڑھ جائے یا وہ بڑے پیمانے پر اثاثے خریدے تو اس کا آڈٹ کیا جا سکے گا۔ اسی طرح اسکیم کا غلط استعمال، معلومات چھپانے یا ٹیکس سے بچنے کی کوشش کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ ایف بی آر کو تھرڈ پارٹی سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر بھی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔