فلائی دبئی کی پرواز سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز کو کاک پٹ میں پائلٹوں کے درمیان مبینہ جسمانی جھگڑے کے بعد ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث طیارے کو سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا گیا۔ پرواز میں 174 افراد سوار تھے، جن میں 27 بچے بھی شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب کی جانب سفر کے دوران طیارے سے مختصر وقت کے لیے ایسا ہنگامی سگنل جاری ہوا جس سے ممکنہ طور پر طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر صورتحال کو ممکنہ ہائی جیکنگ سمجھتے ہوئے جنگی طیارے بھی فضا میں روانہ کردیئے۔
تاہم بعد کی معلومات میں سامنے آیا کہ ہنگامی سگنل کاک پٹ میں موجود پائلٹوں کے درمیان مبینہ لڑائی کے نتیجے میں فعال ہوا تھا۔ صورتحال کے بعد پرواز کا رخ سعودی عرب کی طرف موڑ دیا گیا، جہاں طیارے کو کم بلندی پر لانے کے بعد بحفاظت لینڈ کرایا گیا۔
واقعے کے بعد اسرائیل میں سیکیورٹی کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوری طور پر سیکیورٹی اجلاس طلب کیا، جبکہ اسرائیلی پولیس کے آپریشنز ڈویژن کو دیگر متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ کمانڈ سینٹر قائم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اسرائیلی پولیس کمشنر ڈینی لیوی نے بھی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک طیارے میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل نوعیت واضح نہیں ہوجاتی، سیکیورٹی ادارے ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں گے۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے بھی اعلیٰ عسکری حکام کے ساتھ معاملے پر مشاورت کی۔ اجلاس میں اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر، آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ اور دیگر کمانڈرز نے شرکت کی۔
فلائی دبئی کی مذکورہ پرواز متحدہ عرب امارات کے دبئی ایئرپورٹ سے صبح 7 بج کر 5 منٹ پر روانہ ہوئی تھی اور شیڈول کے مطابق اسے تل ابیب کے قریب بن گوریون ایئرپورٹ پر تقریباً صبح 9 بج کر 30 منٹ پر پہنچنا تھا۔