گلگت بلتستان میں حکومت نا بنانے کے فیصلے پر ھمارے 6 ارکان کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار ناراض ھوئے ۔ رانا ثناء اللہ

سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سے متعلق معاملات پر حکومت اور Pakistan Peoples Party کے درمیان مشاورت جاری رہی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم بعد ازاں حکومتی قیادت نے انہیں بجٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور معاملات پر وضاحت فراہم کی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت این ایف سی ایوارڈ کے بعض پہلوؤں میں تبدیلی کی خواہاں تھی، لیکن پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر مختلف مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں کسی بھی تبدیلی کے لیے تمام صوبوں کی مشاورت اور اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔

گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے کی کوشش کی اور انتخابی نتائج پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد Election Commission of Pakistan نے بعض حلقوں میں دوبارہ گنتی اور محدود پیمانے پر ری پولنگ کے احکامات بھی جاری کیے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت کے پاس گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی گنجائش موجود تھی، تاہم سیاسی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے اکثریتی جماعت کو حکومت سازی کا موقع دیا گیا۔ ان کے بقول بعض امیدواروں نے اس فیصلے پر تحفظات بھی ظاہر کیے، لیکن قیادت نے جمہوری اصولوں کو ترجیح دی۔

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ حکومت اتحادی جماعتوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرتی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

انہوں نے Faisal Vawda کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بعض بیانات متنازع نوعیت کے ہوتے ہیں اور وہ اکثر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق فیصل واوڈا کے بعض سیاسی مطالبات پورے نہ ہونے کے باعث بھی اختلافات سامنے آئے۔

آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر حالات معمول کے مطابق ہیں، جبکہ چند علاقوں میں محدود نوعیت کی سیاسی سرگرمیاں اور احتجاج دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بیشتر اضلاع میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور حکام حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔