امام الحق اور محمد رضوان این سی سی آئی اے لاہور آفس میں پیش
قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی امام الحق اور محمد رضوان انگلینڈ کے دورے کے دوران ڈریسنگ روم سے متعلق معلومات لیک ہونے کے معاملے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سامنے پیش ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق دونوں کرکٹرز این سی سی آئی اے لاہور آفس میں ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس پر پیش ہوئے۔ امام الحق اور محمد رضوان نے اپنا مؤقف تحریری طور پر جمع کرانے کے لیے مزید وقت طلب کیا ہے، جبکہ دونوں کھلاڑی بعد میں تحریری جوابات بھی جمع کروائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے دونوں کرکٹرز کے موبائل فون این سی سی آئی اے کے حوالے کیے تھے۔ تفتیش کے سلسلے میں کھلاڑیوں سے موبائل فونز ان لاک بھی کروائے جائیں گے، جس کے بعد انگلینڈ سیریز کے دوران ڈریسنگ روم سے معلومات کے مبینہ اخراج سے متعلق دستیاب ڈیٹا کا جائزہ لیا جائے گا۔
پی سی بی ذرائع کے مطابق بورڈ فی الحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ انکوائری کا عمل جاری ہے۔ ذرائع نے کہا کہ کرکٹرز اور ٹیم آفیشلز کے حوالے سے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بعض غیرمصدقہ اطلاعات گردش کررہی ہیں، اس لیے حتمی معلومات کے لیے انکوائری کے نتائج اور پی سی بی کے باضابطہ مؤقف کا انتظار کیا جائے۔
واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے قومی کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کو ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں طلب کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایجنسی کھلاڑیوں کے موبائل فونز سے حاصل ہونے والی معلومات کی بھی جانچ کرے گی، تاہم پی سی بی کی جانب سے اب تک اس کارروائی کی حتمی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ کے دوران قومی کھلاڑیوں سے منسوب ڈسپلن کی خلاف ورزیوں کے مختلف معاملات کی اندرونی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
پی سی بی کے ترجمان کے مطابق بورڈ ان واقعات کا جائزہ لے رہا ہے اور انکوائری کے دوران تمام متعلقہ افراد کے بیانات اور دستیاب شواہد کو مدنظر رکھا جائے گا۔
ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیرمصدقہ اطلاعات پر انحصار نہ کیا جائے اور معاملے سے متعلق معلومات کے لیے پی سی بی کے باضابطہ بیانات کو ہی مستند ذریعہ سمجھا جائے۔