آئی ایم ایف کا زرعی ترقیاتی بینک کی ممکنہ نجکاری کے حوالے سے خدشات کا اظہار

آئی ایم ایف نے زرعی ترقیاتی بینک کی ممکنہ نجکاری کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے چھوٹے کسانوں کے لیے زرعی قرضوں اور ترقیاتی فنانسنگ تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق پاکستان میں بڑی تعداد ایسے کاشتکاروں کی ہے جن کے پاس محدود زرعی زمین موجود ہے، اس لیے ان کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

زرعی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے تقریباً 97 فیصد کسانوں کے پاس 12.5 ایکڑ سے کم زمین موجود ہے، جبکہ 61 فیصد کسان ایسے ہیں جو ڈھائی ایکڑ سے بھی کم رقبے کے مالک ہیں۔ دوسری جانب صرف چند ہزار بڑے زمینداروں کے پاس 100 ایکڑ سے زائد اراضی موجود ہے۔

آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ زرعی ترقیاتی بینک ملک کا واحد مخصوص زرعی مالیاتی ادارہ ہے جو کم آمدن رکھنے والے کسانوں کو قرضوں کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ نجکاری کے بعد کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے کسانوں کو قرض دینے میں دلچسپی کم ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر نجکاری سے قبل وفاقی کابینہ اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی کی ہے۔

ادھر زرعی ترقیاتی بینک کی مالی صورتحال میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ بینک کے خراب قرضے کم ہو کر تقریباً 50 ارب روپے تک آگئے ہیں، جبکہ گزشتہ تین برسوں میں نادہندہ قرضوں میں لگ بھگ 25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ صرف ایک سال کے دوران خراب قرضوں میں 8 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

بینک انتظامیہ کے مطابق گورننس اصلاحات اور مؤثر ریکوری اقدامات کے باعث ادارے نے گزشتہ تین برسوں میں 9.8 ارب روپے کی ریکوری کی، جبکہ مجموعی منافع بڑھ کر 70 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ منافع گزشتہ دو دہائیوں کے مجموعی منافع سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔

اسی عرصے میں بینک کی ٹیکس ادائیگیاں 27 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ تین سال کے دوران 250 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کیے گئے۔ وزیراعظم کسان پیکج کے تحت بھی 42 ارب روپے کے قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں بینک کی ایکویٹی بڑھ کر 95 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔