پاکستان کی معیشت رواں مالی سال بھی مقررہ ہدف کے مطابق رفتار حاصل نہیں کر سکے گی۔آئی ایم ایف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوئے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت رواں مالی سال بھی مقررہ ہدف کے مطابق رفتار حاصل نہیں کر سکے گی۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو تقریباً 3.6 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو حکومتی ہدف 4 فیصد سے کم ہے۔ آئی ایم ایف نے اس حوالے سے اپنی اپریل میں جاری کی گئی پیش گوئی کو برقرار رکھا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال بھی معاشی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد رکھا گیا تھا، تاہم حقیقی شرح نمو 3.6 فیصد رہی۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے دوران پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق پاکستان میں اوسط افراطِ زر تقریباً 8.4 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں عالمی سپلائی چین کو درپیش خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اور مختلف حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ معاشی اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کریں تاکہ ممکنہ چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق 2026 میں عالمی اقتصادی ترقی کی شرح تقریباً 3 فیصد رہے گی، جبکہ 2027 میں اس کے بڑھ کر 3.4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے، تاہم مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی میں پیش رفت مستقبل میں کئی معیشتوں کے لیے مثبت مواقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔