آئی پی ایل 2025 میں مبینہ کرپشن کے الزامات، خفیہ کیمرہ تحقیقات میں اہم دعوے

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2025 کے حوالے سے مبینہ کرپشن اور میچ فکسنگ سے متعلق نئے دعوے سامنے آئے ہیں، جنہوں نے بھارتی کرکٹ میں ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔

تہلکہ کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی خفیہ کیمرہ تحقیقات پر مبنی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی پی ایل 2025 کے دوران بعض ٹیموں کی پلیئنگ الیون سے متعلق معلومات مبینہ طور پر لندن میں موجود بکیز تک پہنچائی جاتی رہیں۔

رپورٹ میں سابق فرسٹ کلاس کرکٹر رچت بھاٹیہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دعوے کے مطابق انہوں نے چنئی سپر کنگز کی ٹیم سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے عوض ہر میچ کے لیے 60 لاکھ روپے وصول کرنے کا اعتراف کیا۔ بتایا گیا ہے کہ سابق کرکٹر نے گزشتہ دسمبر میں رپورٹرز سے گفتگو کے دوران میچ فکسنگ سے متعلق سرگرمیوں اور اپنے مبینہ کردار کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔

تہلکہ کی رپورٹ کے مطابق پلیئنگ الیون سے متعلق معلومات اسنیپ چیٹ کے ذریعے لندن میں موجود بکیز تک پہنچائی جاتی تھیں، جبکہ پانچ میچز سے مبینہ طور پر تقریباً 3 کروڑ روپے حاصل کیے گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ معلومات فراہم کرنے والا ایک نوجوان وکٹ کیپر بیٹر تھا۔ کرکٹ صحافی پرتیش ہلدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کھلاڑی کی شناخت ونش بیدی کے نام سے کی۔

ونش بیدی کو آئی پی ایل 2025 کی نیلامی کے دوران چنئی سپر کنگز نے 55 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔ تاہم ان سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

تہلکہ کی تحقیقات میں رچت بھاٹیہ سے متعلق 2018-19 کی سید مشتاق علی ٹرافی میں مبینہ اسپاٹ فکسنگ کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق کرکٹر نے سٹے بازوں سے رقم لینے کے بدلے جان بوجھ کر دو گیندیں وائیڈ کرانے کا اعتراف کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہر وائیڈ گیند کے عوض 8 لاکھ روپے طے کیے گئے تھے، جبکہ رانجی ٹرافی کی ایک ٹیم میں جگہ حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر رشوت دینے کا دعویٰ بھی سامنے آیا۔

تحقیقات میں مبینہ سرگرمیوں کا تعلق دہلی پریمیئر لیگ سے بھی جوڑا گیا ہے، جہاں پلیئنگ الیون کی معلومات فراہم کرنے کے بدلے فی میچ 40 لاکھ روپے لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ان تمام الزامات اور دعوؤں کے حوالے سے حتمی حقیقت کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی باضابطہ تحقیقات اور دستیاب شواہد کی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گا۔