ایران نے حالیہ امریکی حملوں کے بعد جوابی اقدامات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں موجود بعض امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی فوجی کمان کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں جنوبی ایران میں ہونے والی امریکی کارروائیوں کے ردعمل میں کی گئیں۔ حکام کے مطابق بعض امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے جبکہ امریکی حملوں کے نتیجے میں سیریک کے علاقے میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور اور دو پانی کے ذخیرہ ٹینک بھی متاثر ہوئے۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی اقدامات کے جواب میں بحرین میں تعینات امریکی ففتھ فلیٹ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو مزید سخت ردعمل دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب روسی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے جم کے علاقے میں ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو تباہ کر دیا، جبکہ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں واقع امریکی الازرق فوجی اڈے پر میزائل حملے کیے۔
ایرانی حکام کے مطابق الازرق اڈے پر متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں مبینہ طور پر ایف-35 طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شامل تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے گئے۔
علاوہ ازیں ایران نے کویت میں واقع علی السالم فوجی اڈے پر بھی ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم کویتی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ممکنہ خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہا ہے اور صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے