ایران نے سعودی عرب پر حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی
ایران نے سعودی عرب میں مبینہ حملوں سے خود کو الگ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی اہداف پر داغے گئے پروجیکٹائلز سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج یا متعلقہ اداروں کا ان حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ان کے مطابق عراق کی سرزمین سے ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے حملے کیے گئے، تاہم فضائی دفاعی نظام نے داغے گئے ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کر دیا۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ عراق اپنی سرزمین کو ایسے حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ وزارت نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران نے سعودی عرب میں مبینہ حملوں سے خود کو الگ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی اہداف پر داغے گئے پروجیکٹائلز سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج یا متعلقہ اداروں کا ان حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ان کے مطابق عراق کی سرزمین سے ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے حملے کیے گئے، تاہم فضائی دفاعی نظام نے داغے گئے ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کر دیا۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ عراق اپنی سرزمین کو ایسے حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ وزارت نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔