امریکا کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایران نے مختلف محاذوں پر جوابی اقدامات کا دعویٰ کرتے ہوئے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرِ ہند میں ایک امریکی بحری جہاز پر کروز میزائل داغے گئے، جبکہ کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی ہدف بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھنے کے اپنے فیصلے کا اعادہ کیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بحرین میں امریکی ڈرون کشتیوں کے مبینہ گودام اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ ایک مرکز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ بوشہر کے قریب ایک ایم کیو-9 ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں میں دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں جہاز ایسے بحری راستے سے گزر رہے تھے جہاں بارودی سرنگوں کا خطرہ موجود تھا۔
ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز فی الحال مکمل طور پر بند رہے گی اور جب تک امریکی حملے جاری رہیں گے، اس راستے سے تیل، گیس اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل بحال نہیں ہونے دی جائے گی۔
دوسری جانب اردن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 10 ایرانی میزائل تباہ کر دیے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اردن میں واقع دو فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں بعض امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کے خلاف کارروائیوں میں لڑاکا طیارے، ڈرونز، جنگی بحری جہاز اور دیگر عسکری وسائل استعمال کیے گئے۔ ان حملوں میں نگرانی مراکز، اسلحہ کے ذخائر، فوجی اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساحلی شہر جاسک میں بجلی کے نظام اور سمندری پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنانے والی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں، جس کے باعث بعض دیہات میں پانی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہو گئی۔