ایران کی جانب سے شام کے علاقے التنف میں قائم امریکی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی جانب سے شام کے علاقے التنف میں قائم امریکی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ایران میں امریکی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کے جواب میں کی گئی۔ بیان کے مطابق فضائی کارروائی کے دوران التنف میں واقع امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر، ریڈار نظام، متعدد خصوصی ہیلی کاپٹرز اور وہاں موجود امریکی اہلکاروں کو ہدف بنایا گیا۔
ادھر قطر کی وزارتِ داخلہ نے اطلاع دی ہے کہ جمعے کی صبح ایرانی حملوں کے بعد فضائی دفاعی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے ایک بچہ زخمی ہوا۔ وزارت کے مطابق زخمی بچے کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور اس کی حالت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بچہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے میزائل روکنے کی کارروائی کے دوران نیچے گرنے والے ملبے کی زد میں آیا۔
دوسری جانب کویت کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ملکی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا۔ حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں سنائی دینے والی زور دار آوازیں انہی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں۔
وزارتِ دفاع نے مزید بتایا کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی بروقت نشاندہی کر لی گئی تھی، تاہم تباہ کیے گئے اہداف کے ملبے سے بعض مقامات پر معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں، جن کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کے دوران پرسکون رہیں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
قبل ازیں ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی افواج نے بحرین کے صخر ایئر بیس پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔